ہبلی:10؍ ڈسمبر(ایس اؤ نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے کلیان کرناٹک اور وجئے پورا ضلع میں اسکولی بچوں کو دوپہر کےکھانےمیں انڈا دئیے جانے کے منصوبے کو جاری کئےجانےکے خلاف علاقے کے مختلف مٹھوں کے سوامیوں نے مخالفت شروع کردی ہے۔سوامیوں نے حکومت کو متنبہ کیا ہےکہ اگر وہ اپنےمنصوبے کو نافذ کرتی ہے تو اس کے خلاف سخت احتجاج کیا جائےگا۔
آل انڈیا وزیٹیرئین فیڈریشن کے کنونیر دیانند سوامی جی نے اخبار نویسوں سےکہاکہ حکومت کی جانب سے سرکاری ، امدادی اور آنگن واڑی کے بچوں کو دوپہر کےکھانےمیں انڈادئیے جانا کئی خاندانوں کے روایات کےخلاف ہے۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ اسکول کے بچوں کو مقوی غذا ملے گی اور ان کی کمزوری دور ہوگی۔ لیکن سبزی میں بھی ایسی کئی قسمیں ہیں جن میں انڈے سے زیادہ پروٹین پائے جاتے ہیں۔ حکومت ملٹی وٹامن والی سبزیوں کو کھلائےتاکہ جو بچے سبزی خور خاندانوں سے آتے ہیں ان کے مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں۔
سوامی جی نےکہاکہ ہم گوشت خور وں کے خلاف نہیں ہیں، لیکن بچوں کو انڈے کھانےپر دباؤ نہ ڈالاجائے۔ ہم اس کے خلاف بیلگام سے 20دسمبر کو احتجاج شروع کررہےہیں۔ تاکہ حکومت اپنا منصوبہ واپس لے۔ اگر حکومت اپنے منصوبے کو رد نہیں کرسکتی ہے تو حکومت کو چاہئےکہ وہ سبزی خور بچوں اور گوشت خور بچوں کےلئے الگ الگ اسکول اور آنگن واڑی مراکز کا انتظام کرے۔
بسوا دھرما مہا جگت گرو پیٹھ کوڈل سنگما کے صدر جگت گرو ماتے گنگادیوی نےکہاکہ چند بچوں کو انڈا اور دیگر بچوں کو موز کی تقسیم کرنے سے تفریق ہوگی۔ حکومت کو لازمی طورپر پھل، دودھ اور مقوی غذاؤں کی تقسیم کرنی چاہئے۔ دیگر مٹھوں کے سوامیوں کے ساتھ میٹنگ ہونےجارہی ہے جہاں احتجاج کے طورطریقے تشکیل دئیے جائیں گے۔ تاکہ حکومت اپنے آرڈر کو واپس لے۔ گدگ کے مشہور مٹھ یڈیور تونٹداریا سنستھا مٹھ کے سوامی جی جگت گرو تونٹدسدراما سوامی جی نے کہاکہ وہ اس سلسلے میں وزیرا علیٰ کو خط لکھ رہے ہیں۔